
پاکستانی قبائیلی علاقون مین امریکی حملے بھرتے جا رہے ہین۔ پاکستان کے بار بار احتجاج کے باوجود امریکی پالیسی مین تسلسل جاری ہے۔ تمام زبانی یقین د یہانیون کے با وجود تقریباً روز کسی نہ کسی پاکستانی علاقے پر امریکی حملہ ہو رہا ہے۔ پاک فوج کا یہ بیان کہ سرحدی خلاف ورزی پرہم بھی کاروائی کرین گے۔ آج پہلی بار نہین آیا اس سے پہلے جنرل کیانی اور جنرل طارق مجید بھی ایسے بیان دے چکے ہین۔ کیا ہم اپنی علاقائی سالمیت اور اقتداراعلٰی کو یون ہی پامال یوتے دیکھتے رہین گے۔ اور بیان پر بیان داغ کراپنی نا مردی اور کمزوری کا اظہار کر تے رہین گے یا پالیئسی مین تبدیلی کی ضرورت ہے اور باتون سے زیادہ عمل کی ضرورت ہے۔
ٌٌٌٌٌ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان کے دورے پر آئے امریکی نائب وزیر خارجہ رچرڈ باوچر نے صدر آصف زرداری سے ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات مین صدر نے رچرڈ باوچر کو افغانستان کی جانب سے دراندازی روکنے کے لئے اور افغان حکومت کی جانب سےطالبان کی مدد رکوانے کی درخواست کی
دوسری جانب برطانوی وریر خارجہ نے کہا ہے کے طالبان پاکستان سے آ رہے ہین اور افغانستان مین حملے پاکستان کی جانب سے آئے طالبان کر رہے ہین۔

پاکستان ایک ایسی جنگ لڑ رہا ہے جس مین اپنے کباڑے کے سوا کچھ حاصل ہونے کی توقع نہین کی جا سکتی۔ افغانستان مین امن اور پاکستان میدان جنگ بن چکا ہے۔ اے کاش ہمارے بڑے جانورون سے ہی سے سیکھین کے جانور بھی اپنے نسل کے جانور
کا گوشت نہین کھاتے۔ ہمارے حکمران اور سیاست دان اور کسی حد تک عوم بھی مردار خور ہو چکی ہے ۔ زندا لعشین تو نظر آتی ہین مگر زندا انسان نہین۔ ایسی زندگی کا کیا فائدا کے روز مرنا پڑے۔ کیا کرین باپ دادا کی قربانیان نہ یاد ہوتین تو کب کا ملک چھوڑ دیا ہوتا۔ اے وطن تجھ سے مہبت بھی انتہا کی ہے اور تیرے باسییون سے نا امیدی بھی انتہا کی۔۔۔۔۔۔۔
کاش ہم آزاد ہو جا ئین۔
کا ش
ہم بھی غیرت مند بن جایئن۔ اگر مستقبل مین بھی یہ ہی حالات رہتے ہین ۔۔۔۔۔۔ اللہ پاکستان کی حفاظت فرمائے۔ ہمین دشمنون کے ساتھ ساتھ ہمارے اپنون سے بہی بچائے۔۔۔۔۔۔۔آمین
